Latest Post
آج کل پاکستان میں ہر طرف موت بانٹی جارہی ہے مہنگائی، کرپشن، جعلی ادویات، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں۔ لیکن حکمران ہیں کہ ان کی لڑائیاں ختم نہیں ہورہیں۔
کراچی میں*ٹارگٹ کلنگ کی بدولت سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے لیکن اے این پی، ایم کیوایم، پیپلزپارٹی، ن لیگ سب آپس میں*جھگڑ رہےہیں۔ پہلے کراچی میں ایم کیوایم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں*لیکن جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیاتو معلوم ہوا کہ پیپلزپارٹی، اے این پی، سندھی قوم پرست جماعتیں بھی پیچھے نہیں رہیں۔
دن بدن مہنگائی ہورہی ہے، پٹرول، گیس اور دیگر اشیاء مہنگی ہورہی ہیں لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ 80 فیصد منشور پر عمل کردیا۔
پیپلزپارٹی کی کارکردگی تو سب کے سامنے ہے تو پنجاب حکومت بھی ان سے پیچھے نہیں رہی۔ خادم اعلٰی اپنی ساکھ بنانے کے لئے آئے دن اخبارات میں قوم کے پیسوں سے بڑے بڑے اشتہارات دیتے ہیں لیکن کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کا مقابلہ وفاق سے کیا جاسکتا ہے۔ ڈینگی سے سینکڑوں افراد موت کی نیند سوگئے، جعلی ادویات سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے لیکن دونوں بڑی جماعتوں کی لڑائیاں ہیں کہ ختم نہیں ہورہیں۔
جعلی ڈگریوں میں سب سے زیادہ ن لیگ کے ارکان ملوث رہے، کمپیوٹرائزڈ نظام تعلیم نے لاکھوں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگادیا، جس طالب علم نے بیالوجی کی بجائے کمپیوٹر کا مضمون رکھا تھا اسے بیالوجی میں پاس کردیا گیا۔ جس طالب علم نے سائنس رکھی تھی اسے آرٹس میں پاس کردیا گیا۔ جس طالب علم کی شہر میں ٹاپ پوزیشن تھی اسے سرے سے ہی فیل کردیا گیا۔ اس نظام کی بدولت پاس شدہ طلباء فیل اور فیل طلباء پاس ہوگئے۔ طالب علموں نے بورڈ آفسز جلائے تو پنجاب حکومت کو ہوش آیا۔
مافیاز ملک پر قابض ہوگئے۔ مرغی کا گوشت مہنگا ہوا تو خبریں*آنا شروع ہوگئیں کہ حمزہ شہباز شریف نے پولٹری فارم اور مرغیوں کی خوراک کا کاروبار شروع کردیا ہے۔مرغی کا گوشت جو 120 روپے تھا اب 260 روپے سے بھی مہنگا ہوگیا۔ اب تو یہ بھی کہنا شروع کردیا گیا ہے کہ لاہور میں کچھ دن پہلے حمزہ شہباز شریف کی جانب سے شروع کی گئی فوڈ سٹریٹ میں چکن بھی حمزہ شہباز شریف کے پولٹری فارمز سے جاتا ہے۔ شوگر ملز تو پہلے سے ہی شریف فیملی کی تھیں۔ اب تو ایک دوائی الفا گرل جو دل کے مریضوں کی موت کا باعث بنی تو شور مچ گیا کہ اس کمپنی میں حمزہ شہباز شریف کے شئیرز ہیں اور اس بارے ایک پیٹیشن لاہور ہائیکورٹ میں بھی درج ہوگئی ہے۔
اب ن لیگ نے جب یہ دیکھا کہ نوجوان اکثریت تحریک انصاف کی طرف مائل ہے تو فوری طور پر پنجاب حکومت نے لیپ ٹاپ سکیم شروع کردی اور ایک لاکھ طالب علموں کے لئے لیپ ٹاپس کا اعلان کردیا گیا۔ نواز شریف اپنے ہر جلسے میں فرماتے ہیں کہ نوجوان عمران خان کے جھانسے میں نہ آئیں۔ دوسری طرف خواتین کا ووٹ اپنی طرف مائل کرنے کے لئے پنک بس سروس کا آغاز کردیا گیا۔ وہ لاہور جہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے وہاں چنگ چی رکشوں کی بھیڑ ہوگئی ہے۔ پنجاب حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ شروع کرنے کی بجائے ییلوکیب سکیم شروع کردی جس کے اسکینڈلز بھی میڈیا پر گشت کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے دو روپے کی سستی روٹی سکیم شروع کی گئی لیکن سالن کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی۔ اب تو سستی روٹی سکیم بھی تقریبا بند ہوچکی ہے اور ہوسکتا ہے کہ پھر شروع ہوجائے کیونکہ الیکشن قریب آرہے ہیں۔ الیکشن کی آمد آمد ہے تو لاہور کی سڑکوں کو اکھاڑنا پچھاڑنا شروع کردیا گیا ہے اور نئی سڑکیں بن رہی ہیں۔ لاہور میں لنک روڈ کی سڑک پرویزالٰہی کے دور کے آخری سال میں بنی تھی لیکن اس سڑک کو توسیع کے نام پر توڑ کر دوبارہ بنایا جارہا ہے۔
الیکشن کی آمد آمد ہے تو شریف فیملی نے اپنے خاندان کو سیاست میں لگادیا ہے مریم نواز شریف کو خواتین کا ووٹ بنک حاصل کرنے کے لئے میدان میں لایا گیا ہے اور پنجاب حکومت مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں اس کے لئے سیمینار کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ اس پر طالبات کے خیالات سنیں
مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کو یوتھ ونگ کا صدر بنادیا گیا جس کی وجہ سے پارٹی کو فائدہ تو نہیں البتہ نقصان بہت پہنچ رہا ہے۔ کیپٹن صفدر کی من مانیوں کی بدولت اس کے آبائی شہر مانسہرہ میں مسلم لیگ کے کارکن دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے اور ایک دھڑا تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ حمزہ شہباز شریف بھی کچھ پیچھے نہیں رہے۔ جہاں عائشہ احد کیس آتا ہے وہاں حمزہ شہباز شریف کا نام بھی آتا ہے۔ ان کا اپنی ہی پارٹی کے کارکن پر تشدد کا یہ کلپ یوٹیوب پر موجود ہے۔
یہ حمزہ شہباز شریف کی پہلی حرکت نہیں ایسی کئی داستانیں موجود ہیں۔ لاہور کے تاجر رہنما نعیم میر جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے نے کچھ عرصہ قبل بیان کیا کہ وہ پارٹی چھوڑرہے ہیں کیونکہ حمزہ شہباز شریف اس سے بدتمیزی سے بات کرتا ہے۔ کچھ ماہ قبل جاویدہاشمی کی بیٹی کی شادی تھی جہاں نوازشریف کو مدعو کیا گیا اور ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی نے ایم کیوایم کے فاروق ستار کو بھی مدعو کرلیا۔ نواز شریف کو جب پتہ چلا تو اس نے شادی میں*آنے سے انکار کردیا لیکن کچھ دن بعد حمزہ شہباز کو شادی پر بھیج دیا جہاں حمزہ شہباز شریف نے ایم کیوایم رہنما سے کافی بدتمیزی کی اور مصافحہ کرنا بھی گوارا نہ کیا اور شادی کی تقریب بدمزہ ہوگئی۔ حمزہ شہباز کی اس حرکت پر جاوید ہاشمی کو فاروق ستار سے معذرت کرنا پڑی۔ کہا جاتا ہے کہ جاوید ہاشمی اس واقعہ پر ایک الگ کمرے میں جاکر رونا شروع ہوگئے اور اس واقعہ سمیت کئی واقعات جاوید ہاشمی کے پارٹی چھوڑنے کا سبب بنے اور جب جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑی تو رانا ثناء اللہ، کیپٹن صفدر، پرویزرشید، صدیق الفاروق نے الزام لگایا کہ جاوید ہاشمی نے عمران خان سے پچاس لاکھ روپے لیکر پارٹی چھوڑی۔ حالانکہ یہ وہی ہاشمی ہے جس نے 1999 میں شریف برادران کی پارٹی کو سنبھالا اور مزید بکھرنے سے بچایا۔ پرویز مشرف کے لالچ دلانے کے باوجود اس نے مشرف سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا اور اس کا نتیجہ اسے جیل کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ شریف برادران کی وطن واپسی کے بعد ن لیگ نے جاوید ہاشمی کو نظر انداز کرنا شروع کردیا اور آخر کار میمو معاملے پر اختلافات پر جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑدی۔
ذوالفقار کھوسہ کے صاحبزادے دوست محمد کھوسہ پر بھی سپناخان کے اغوا کا الزام آرہا ہے۔ پہلے دوست محمد کھوسہ نے سپنا خان سے شادی سے انکار کیا لیکن تصاویر سامنے آنے پر شادی کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ اس نے طلاق دیدی ہے۔ لیکن سپناخان بازیاب نہیں ہوسکی۔
پنجاب حکومت بھی ہتھکنڈوں میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ لبرٹی مارکیٹ میں واقع الفتح سٹور کے مالک نے تحریک انصاف جوائن کرلی تو پنجاب حکومت نے اس کا سٹور غیرقانونی قرار دیکر سیل کردیا۔ اس پر لبرٹی مارکیٹ کے تاجر جس میں ن لیگ کے تاجر بھی تھے سڑکوں پر آگئیےاور ٹریفک بلاک کردی جس پر پنجاب حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور اس کے بعد بہت سے تاجر ن لیگ کے خلاف ہوگئے اور تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔
میمو معاملے پر بھی ن لیگ کا کردار مشکوک رہا ہے۔ فیصل آباد کے جلسے میں نواز شریف نے وارننگ دی کہ اگر حکومت نے میمومعاملے پر کاروائی نہ کی تو دس دن بعد سپریم کورٹ جائیں گے لیکن نواز شریف چوتھے دن ہی سپریم کورٹ چلے گئے اور خود دلائل دینا شروع کردئیے۔ اب میمو معاملہ یہ ہے کہ منصوراعجاز نے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے، حسین حقانی پاکستان سے چلے گئے اور ن لیگ خاموش ہوگئی ہے۔
ن لیگ وفاقی حکومت کی کرپشن، مہنگائی کا رونا رورہی ہے لیکن اپنی گورننس کا کچھ معلوم نہیں ہے۔ پنجاب حکومت اور ن لیگ کی ناقص پالیسیوں کی بدولت تحریک انصاف، جماعت اسلامی ابھر کر سامنے آرہی ہیں۔



0 comments:
Post a Comment