ذرا سا انتظار کیجئے

اقتدار سے بڑھ کر برباد کر دینے والی کوئی چیزنہیں۔ اس لیے محمد(ص) نے حاکموں کو نہیں ، اہلِ علم اور اہلِ ذکر کو اپنا وارث کہا اور یہ کہا تھا کہ حکمرا ن کے جائز کام کی ستائش سے بھی گریز کیا جائے۔ اقتدار امویوں اور عباسیوں کو ملا، سرکار(ص) کے وارثوں کو علم اور فقر عطا ہوا۔

تاویل کرنے والوں کی بات دوسری ہے۔ جب وہ تاویل کرنے پہ آتے ہیں تو کرشمے کر دکھاتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے سامنے کا قصہ نہیں کہ قائد اعظم(رح) نے عمر بھر کبھی سیکولرازم کا لفظ ہی استعمال نہ کیا، اپنی کسی تحریر، تقریر ، خط اور پیغام میں۔ سبھی جانتے ہیں کہ پنڈت جواہر لعل نہرو ہمیشہ سوشلزم ، سیکولرازم اور جمہوریت کی بات کرتے تھے۔ محمد علی جناح(رح) کبھی نہیں۔وہ فقط جمہوریت اور اسلامی اقدار کی۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ ان کے عہد میں یہ اصطلاح زیادہ زور و شور سے گونج رہی تھی لیکن ہمیشہ اورحتمی طور پر انہوں نے اس سے گزیر گیا۔یہ تفصیل کا محل نہیں ورنہ وضاحت کے ساتھ وجوہات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جاتی۔ ہم مگر جانتے تھے کہ محمد علی جناح(رح) محتاط بہت تھے اور دیانت دار بھی بے حد۔ جوشِ خطابت سے انہیں کوئی واسطہ نہ تھا اور خلقِ خدا کو لبھانے کی کوشش وہ کبھی نہ کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جس پہلے مغربی مفکر ہولی ہوکس نے سیکولرازم کی اصطلاح استعمال کی، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ کوئی شخص انکارِ خدا کے بغیر، الحاد کے بغیر سچا سیکولر نہیں ہو سکتا۔ کس ڈھٹائی سے مگر آج قائد اعظم(رض) کو سیکولرازم کا علمبردار قرار دیا جاتا ہے۔ کتنی باریک بینی سے وہ نظریاتی پہلو کو دیکھتے تھے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ گورنر جنرل کے طور پر حلف دیتے ہوئے لارڈ مائونٹ بیٹن نے جب دینِ الٰہی کے خالق اکبر اعظم کی پیروی کا مشورہ دیا تو نہایت سختی کے ساتھ انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ فرمایا:اکبر کی پیروی کرنے کی ہمیں ہرگز کوئی ضرورت نہیں، ہم مسلمانوں نے چودہ سو سال پہلے ہی جمہوریت کا سبق سیکھ لیا تھا۔ آخر وہ کیا چیز تھی کہ 15اگست 1947 کو پہلی بار پاکستانی پرچم لہرانے کی تقاریب کے لیے ڈھاکہ اور کراچی، دونوں میں انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی کے دو نائبین کو نامزد کیا؟ ظاہر ہے کہ وہ پاپائیت کے مخالف تھے اور ملّا کی حکومت کبھی گوارا نہ کرتے۔ صلاح مشورے کی مجلس میں وہ علمائِ کرام کی بجائے اپنے ساتھی وکلا کی بات زیادہ توجہ سے سنتے۔ ان کے فکری پیش رو اور سیاسی ہم سفر اقبال کا عالم بھی یہی تھا۔ ایک ہزار صفحات پر پھیلا ہوا ان کا تابہ ابد زندہ رہنے والا کلام ملّا کی مذمت سے بھرا ہے۔ واقعہ مگر یہ بھی ہے کہ خواجہ مہر علی شاہ ایسے لوگوں سے ملاقات کے لیے گاہے وہ بے تاب ہو جاتے ۔ کیا اس عاشق رسول کو بھی کسی دن سیکولر قرار دے دیا جائے گا؟

بیس برس ہوتے ہیں، میرے چھوٹے بھائی محمد زبیر مرحوم جو بیت المال کی والنٹیر کور کے خالق معمار اور سربراہ تھے، اپنے منصب سے الگ ہو گئے۔ وہ دل گرفتہ تھے اور ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ کیا کریں۔ میاں محمد شریف کے ذاتی دوست، ڈاکٹر راشد رندھاوا سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ انہی کے اصرار اور ایما پر کیلی فورنیا میں وہ ایک نہایت اچھی ملازمت چھوڑ کر وطن آئے۔ ایک روپیہ تنخواہ لیے بغیر دو برس تک وہ رضاکاروں کے اس نظام کی تشکیل میں جتے رہے، جس نے زکوٰۃ کے پیسے کا ناجائز استعمال تقریباً ناممکن بنا دیا۔ خیرہ کن عزم اور صلاحیتوں کا وہ ایک حیرت انگیز آدمی تھا۔ زندگی میں جتنے لوگوں سے اسے واسطہ پڑا، وہ آج بھی اسے رشک اور حیرت سے یاد کرتے ہیں۔ یہی کیا کم ہے کہ خد ا کی زمین پر ، شاید ہی کسی شخص کو کبھی اس سے شکایت رہی ہو۔ قومی زندگی کو سنوارنے کی بے تاب تمنا کے ساتھ جب وہ اس کام میں جتا تھا تو ایک دن میں نے کہا: اگرچہ تم نے ایک نیا ادارہ تعمیر کیا ہے ، مغرب کے کسی جدید معاشرے میں بھی جس پر بے پناہ تحسین کی جاتی لیکن کسی بھی صدمے کے لیے تمہیں تیار رہنا چاہئیے۔ ان روایتی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کوئی معرکہ سر انجام نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ایک سحر وہ اپنے دفتر سے بے چین اٹھا اور کبھی واپس نہ جانے کے لیے لوٹ آیا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنی صوابدید سے روپیہ لٹانے کے لیے بیت المال سے بیس کروڑ روپے نکلوا لیے تھے۔ اخبار کے دفتر جاتے ہوئے ڈاکٹر راشد رندھاوا کے گھر میں ، میں نے ان دونوں کے ساتھ چائے کی ایک پیالی پی اور یہ کہا:بھول جائو اور نئی زندگی آغاز کرو کہ خدا کی دنیا بہت بڑی ہے۔ وہ بھول گیالیکن کچھ دوسرے لوگوں نے فراموش کرنے سے انکار کر دیا۔ کالے کوبرا سانپ کا زہر دے کر انہوں نے اسے ہلاک کر دیا، حالانکہ وہ تو کبھی ایک ناملائم لفظ کا روادار بھی نہ تھا۔شاخِ گل کی طرح ایک بے ضرر آدمی۔ سانپ کا زہر رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے اثر کرتا ہے۔ ایک ایک کرکے جسم کے سارے جوڑ سخت ہو جاتے اور حرکت کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، پھر زبان خاموش ہونے لگتی ہے اور آخر کو پتھر کی ہو جاتی ہے۔ ذہن زندہ رہتا ہے اور آنکھیں حرکت کرتی ہیں۔ آخری بار جب میں نے اسے دیکھا تو یہ آنکھیں آنسوئوں سے بھری تھیں اور انہی آنسوئوں نے مجھے الوداع کہا۔ آج تک کبھی ٹھنڈی ہو انہیں بہی، جب میں نے اسے یاد نہ کیا ہو اور یہ آنسو خود میری آنکھوں میں نہ اتر آئے ہوں۔ شریف برادران سے ہرگز کوئی شکوہ نہیں کہ کبھی انہوں نے اس کے بچوں کاحال تک نہ پوچھا۔ وہ اس کی موت کے ذمہ دار بھی نہیں ، کچھ دوسرے ہیں۔ یہ کہانی ان داستانوں میں سے ایک ہے جو انشا ئ اللہ العزیزمیں لکھ کر چھوڑ جائوں گا کہ میری موت کے بعد پڑھی جائیں۔ کیا اس کا گمان یہ ہے کہ یہ سفاک اور سیاہ سرکاری نظام کسی سچے آدمی کی تاب لا سکتاہے؟ وہ نظام جو ظلم اور فریب کاری پر قائم ہے اور جب تک اسے پامال نہ کر دیا جائے، انہی ستونوں پر استوار رہے گا۔

اقتدار سے بڑھ کر برباد کر دینے والی کوئی چیزنہیں۔ اس لیے محمد(ص) نے حاکموں کو نہیں ، اہلِ علم اور اہلِ ذکر کو اپنا وارث کہا اور یہ کہا تھا کہ حکمرا ن کے جائز کام کی ستائش سے بھی گریز کیا جائے۔ اقتدار امویوں اور عباسیوں کو ملا، سرکار(ص) کے وارثوں کو علم اور فقر عطا ہوا۔